7 مئی 2012 - 19:30

ہلیری نے کہا: ایمن الظواہری پاکستان کے قبائلی علاقوں میں چھپا ہوا ہے اور ہم نے اسامہ کو ہلاک کرکے اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے/ ادھر پاکستان وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ ایمن الظواہری کی پاکستان میں موجودگی کے شواہد نہیں ملے/ ڈیانا فین سٹین: پاکستانی مدارس افغانستان میں جنگجو فراہم کررہے ہیں۔

ابنا: امریکی حکومت نے القاعدہ کے نئے سربراہ ایمن الظواہری کو عالمی نمبر ایک ہدف قرار دیتے ہوئے انہیں تلاش کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے اور کہا ہے کہ امریکہ اسامہ بن لادن کیخلاف ایبٹ آباد میں کارروائی کی تصاویر جاری کرنے کا منصوبہ نہیں رکھتا کیونکہ اس سے امریکہ مخالف جذبات بھڑک سکتے ہیں؛ ادھر چیرپرسن امریکی سینیٹ انٹیلی جنس کمیٹی کے چیر پرسن ڈیانا فین سٹین نے انکشا ف کیا ہے کہ پاکستان میں انتہاپسندمدارس افغانستان میں شورش کیلئے نئے جنگجوفراہم کررہےہیں۔امریکی صدر باراک اوبامہ کے نائب قومی سلامتی مشیر جوہن برینن نے صحافیوں سے گفتگو اور ایک امریکی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں کیا۔ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کی پہلی برسی کے موقع پر امریکی انسداد دہشتگردی اہلکار کا کہنا تھا کہ امریکہ ایمن الظواہری کو تلاش کرنے کا عزم ظاہر کرتا ہے جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ پاکستان کے قبائلی علاقے میں روپوش ہیں۔ جان برینن کا کہنا تھا کہ الظواہری اب امریکہ کا اولین ہدف ہیں۔ ان کے بقول ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ الظواہری اور دیگر القاعدہ قیادت پاکستان کے اس خطے میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت تک ان رہنماﺅں کی تلاش جاری رکھیں گے جب تک کہ انہیں انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اسامہ کو ہلاک کرکے اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے اور پاکستان میں اپنے انسداد دہشتگردی شراکت داروں کے ساتھ ہم مسلسل رابطے میں ہیں کہ کس طرح سے جلد سے جلد یہ کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ القاعدہ کو جانا ہوگا یہ وہ تنظیم ہے جس کے ذمہ معصوم لوگوں کا قتل عام ہے اور دنیا بھر میں دیگر ممالک اس کی شکست کیلئے پرعزم ہیں۔ ایمن الظواہری کی پاکستان میں موجودگی کے شواہد نہیں ملے، حنا ربانیوزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ ایمن الظواہری کی پاکستان میں موجودگی کے شواہد نہیں ملے، امریکا کے پاس معلومات ہیں تو شیئر کرے۔ قومی سلامتی کمیٹی کے چیئرمین رضا ربانی کہتے ہیں کہ امریکا کے ساتھ تعلقات کیلئے سمت کا تعین کر لیا ہے۔ سینیٹر رضا ربانی کی زیرصدارت قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا جس میں وزیر خارجہ حنا ربانی کھر اور سیکریٹری دفاع نرگس سیٹھی نے بھی شرکت کی۔ حنا ربانی کھر نے پاک امریکا تعلقات کے بارے میں رابطوں پر کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ایمن الظواہری کی پاکستان میں موجودگی کے شواہد نہیں ملے، اگر کسی کے پاس الظواہری سے متعلق معلومات ہیں تو شیئر کرے۔ حنا ربانی کھر نے بتایا کہ امریکا سے بات چیت ابھی شروع ہوئی ہے اسے ناکام کہنا درست نہیں، امریکا سے کہہ دیا ہے کہ القاعدہ امریکا اور پاکستان کی مشترکہ دشمن ہے۔ انہوں نے کہا کہ القاعدہ کی وجہ سے پاکستان میں بھی بچے مر رہے ہیں، امریکا کو بتا دیا ہے کہ ڈرون حملے پاکستان کی خودمختاری کے خلاف ہیں اور ان کے منفی نتائج سامنے آرہے ہیں۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت میں رضا ربانی نے کہا کہ ڈرون حملوں پر لیون پنیٹا کے بیانات صورتحال کو مزید ابتر کریں گے، امریکا ہماری پارلیمانی سفارشات کا احترام کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈرون حملے رکوانے کے لئے سفارتی ذرائع بھی استعمال کر رہے ہیں۔ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ رضا ربانی کا کہنا تھا کہ منگل کو خفیہ اداروں کے سربراہان لاپتہ افراد کے حوالے سے کمیٹی کو بریفنگ دیں گے۔

ڈیانا فین سٹین: پاکستانی مدارس افغانستان میں جنگجو فراہم کررہے ہیں چیرپرسن امریکی سینیٹ انٹیلی جنس کمیٹی کے چیر پرسن ڈیانا فین سٹین نے انکشا ف کیا ہے کہ پاکستان میں انتہاپسندمدارس افغانستان میں شورش کیلئے نئے جنگجوفراہم کررہےہیں۔امریکی اخبا رکےچیرپرسن کو انٹرویومیں ڈیانا فین سٹین کا کہنا تھا کہ امریکی فوجیوں کی تعدادمیں اضافے کےباوجودطالبان مضبوط ہوئے،یہ بغاوت ہے جوایک خاص مدت کے بعدیاتودم توڑجائیگی یاشدت اختیارکریگی۔امریکہ کے سی مو قف کو دہراتے ہوئے امریکی انٹیلی جنس کے چیئر مین کمیٹی مائیک روجرکا کہنا تھا کہ پاکستان کے قبا ئلی علاقوں میں طالبان کےمحفوظ ٹھکانوں کوتباہ کرناہوگا،طالبان کے محفوظ ٹھکانے شمالی وزیرستان کے علاقے میرانشاہ میں ہیں۔طالبان اب تک تقریباً 500امریکی فوجیوں کوہلاک کرچکےہیں۔انکا کہنا تھا کہ امریکہ کی پہلی ترجیح طالبان کواسٹریٹجک شکست دیناہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110